9 اگست 2012 - 19:30

ایران میں "شام کانفرنس عنان منصوبے کے احیاء کی کوشش / ایران میں شام کانفرنس کا پیغام / اخضر ابراہیمی کوفی عنان کا جانشین / شام میں نو فلائی زون نافذ کرنے کا امریکی خواب / مکمل صفایا کرنے تک دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری رہے گی/ دوسرے اہم علاقے السکری کی آزادی عنقریب / شام میں سعودی، قطری اور ترکی کی خفیہ ایجنسیوں کی دستاویزات برآمد اشاعت سے شام کے حالات کا رخ بدل سکتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کا بحران حل کرنے کے سلسلے میں تہران میں منعقدہ مشاورتی اجلاس نے شام دشمن "مغرب ـ عرب محاذ" کو بڑے چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ اس کانفرنس میں تیس ممالک نے شرکت کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ممالک شام کا بحران پرامن انداز سے حل کرنے کے خواہاں ہیں اور یہی پر امن حل وہی مسئلہ ہے جس کو سن کر یا دیکھ عرب اور مغربی حکمران خوفزدہ یا غضبناک ہوجاتے ہیں اور اس بحران کو حل کرنے کے تمام تر پرامن راستوں کو یکی بعد دیگرے منہدم کرنے پر تل جاتے ہیں کیونکہ ان کا خیال باطل یہ ہے کہ شام کا مسئلہ اگر جنگ پر منتج ہوجائے تو اس کا فائدہ مغرب کو ملے گے جبکہ عرب محاذ کے اپنے کوئی مفادات نہیں ہیں ان بےچاروں کو یہودی ریاست بچانے کی اس کوشش میں زبردستی ہانکا گیا ہے اور انہیں البتہ یہ توقع بھی دلائی گئی ہے کہ اگر شام کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ان کی حکومتوں کو خلاف اٹھنے والے انقلابات کی سرکوبی میں مغربی قوتیں بھی کردار ادا کریں گی!۔ــ ایران میں "شام کانفرنس عنان منصوبے کے احیاء کی کوششایران کے نائب وزیر خارجہ نے تہران میں شام کانفرنس میں 30 ممالک کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا ایک اہم مقصد کوفی عنان کے چھ نکاتی منصوبے کا احیاء تھا تا کہ شام کا بحران پرامن طریقے سے حل ہوسکے۔ ہاطلاعات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ "حسین امیر عبداللہیان" نے کہا: ہم اور دوسرے شرکاء اس اجلاس میں کوشش کرتے ہیں کہ شام میں تشدد کا سلسلہ بند کریں اور قومی گفتگو اور موجودہ صورت حال کی بجائے سیاسی متبادل متعارف کرائیں کیونکہ علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کا مقصد بھی یہی ہے۔ انھوں نے کہا: کوفی عنان کا چھ نکاتی منصوبہ شام کے بحران کے حل کے لئے مناسب منصوبہ ہے جس کے نفاذ کی صورت میں تشدد کا سلسلہ رک سکتا ہے اور دوسرے ملکوں کو شام کے معاملات میں مداخلت سے روکا جاسکتا ہے۔ عبداللہیان نے کہا: 30 ممالک کے وفود نے اس تہران کانفرنس میں شرکت کی ہے اور ان ممالک میں اکثریت ان ملکوں کی ہے جو شام میں قومی گفتگو اور تشدد کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ــ وزیر خارجہ: شام کے بحران کا واحد راہ حل "مذاکرات"اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹرعلی اکبر صالحی نے مذاکرات اور بات چیت کو شام کے مسئلے کا واحد حل قرار دیا اور حکومت نیز عوامی مقبولیت رکھنے والی مخالف جماعتوں کو سنجیدہ اور وسیع البنیاد بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے۔صالحی نے جمعرات 10 اگست 2012 کو تہران میں "شام ـ تشدد کی نفی" کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کہا: اسلامی جمہوریہ ایران گذشتہ برسوں کے دوران علاقے ميں رونما ہونے والے بحرانوں کے حل کا حصہ رہا ہے اور لبنان، عراق اور افغانستان کے بحرانوں میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کرچکا ہے جس کا مقصد اقوام کے مفادات کے حصول کے لئے امن و سکون کی بحالی تھی اور ہم نے ان مقاصد کے لئے ہمیشہ سے مذاکرات اور بات چیت کی حکمت عملی پر زور دیا ہے اور ہم شام کے سلسلے میں بھی یقین ہے کہ یہ مسئلہ بھی بات چـیت سے حل ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: شام کے مسئلے کے پرامن حل کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیاری کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا: بین الاقوامی معاشی پابندیوں سے نہ صرف شام کے قومی مفادات کو کوئی فائدہ نہيں ملا بلکہ شامی عوام کے رنج و مشقت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے شامی عوام کے مصائب و مسائل قدرے ک‍م کرنے کی خاطر ادویات، ایمبولینس، طبی ضروریات کی چیزیں شام بھجوائی ہیں۔انھوں نے کہا: علاقے کے تمام ممالک کو ـ جو کسی طرح شام کے بحران میں کردار ادا کررہے ہیں ـ یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ شام کی سیاسی صورت حال، آبادی کے ڈھانچے جغرافیائی اور جیو پولیٹیکل صورت حال کا تقاضا یہی ہے کہ اس ملک میں فوجی مداخلت یا بدامنی پھیلاکر کوئی بھی مسئلہ حل کرنا ممکن نہيں ہے۔انھوں نے کہا: شام میں بحران کو شدت بخشنا، شدت پسند گروپوں کو ہتھیاروں سے لیس کرنا، القاعدہ جیسے دہشت گرد ٹولوں کو اس ملک کے اندر سرگرم رہنے کا امکان فراہم کرنا نہ صرف بحران کو حل کرنے میں ممد و معاون نہ ہوگا بلکہ شام کی بدامنی کو دوسرے ممالک تک بھی لے جائے گا اور آنے والی صورت حال کو درست کرنا، شام کے بحران کے حل سے کہیں زيادہ پیچیدہ اور مشکل ہوگا۔ ــ شام کے سلسلے میں تہران نشست کا پیغام مصری ماہر و تجزیہ نگار نے تہران میں شام کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں منعقدہ اجلاس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے کئی اہم ممالک شام کے نظام حکومت کے حامی ہیں۔اطلاعات کے مطابق مصری فوجی و تزویری تجزیہ نگار "طلعت مسلم" نے کہا: تہران میں شام کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے معلوم ہوتا کہ مغرب کو شام کے مسئلے کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے سے قبل علاقے کے مؤثر ممالک کی رائے ضرور پوچھنی چاہئے ورنہ اس کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی۔انھوں نے کہا: شام کے مسئلے کے حل میں ایران کی موجودگی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ صرف چـین اور روس ہی شامی حکومت کے حامی نہیں ہیں بلکہ دوسرے ممالک بھی شام کے حامی ہیں اور امریکہ اور اس کے حلیف ان ممالک کے کردار کو نظر انداز نہيں کرسکیں گے۔ــ شام؛ اخضر ابراہیمی کوفی عنان کے جانشین مقررکہنہ مشق الجزائری سفارتکار اخضر الابراہیمی کو کوفی عنان کی بجائے شام کے معاملے میں اقوام متحدہ کا ایلچی مقرر کیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اخضر الابراہیمی کی تقرری کا باقاعدہ اعلان آنے والے ہفتے میں ہوگا جس کے لئے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اخضر ابراہیمی نے اس سے قبل بھی عراق، افغانستان اور لبنان کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے ایلچی کے عنوان سے کردار ادا کیا ہے۔ ــ ایران کا عزم، شام کے بحران کا سیاسی حلایرانی مطالعات کے عرب مرکز کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ تہران میں منعقدہ شام کانفرنس اس بات کی دلیل ہے کہ ایران شام کے بحران کا سیاسی اور پرامن حل چاہتا ہے اور اس ملک میں ہتھیاروں کے زور پر کسی بھی اقدام کے خلاف ہے۔اطلاعات کے مطابق ایرانی مطالعات کے عرب مرکز کے ڈائریکٹر "محمد صالح صدقیان" نے کہا کہ تہران میں شام کے بحران کے حل کے لئے کانفرنس کے انعقاد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران شام کے مسئلے کے پر امن حل کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا: ہم شام میں بیرونی جارحیت اور ہتھیاروں کے زور سے موجودہ بحران حل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہیں۔انھوں نے کہا: شام کے مسئلے میں دو قسم کی خواہشیں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک خواہش یہ ہے کہ اس ملک کا بحران پرامن انداز سے حل کیا جائے اور سیاسی روشوں اور بات چیت کو مطمع نظر قرار دیا جائے جبکہ بعض قوتوں کی خواہش یہ ہے کہ اس ملک پر فوجی چڑھائی کی جائی اور بیرونی مداخلت کو یقینی بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ کوفی عنان کے منصوبے میں واضح کیا گیا تھا کہ شام کا بحران، اس بحران کے تمام فریقوں کی طرف سے حکومت شام کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر، حل کرنے کی کوشش کی جائے اور تمام فریق مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں۔صدقیان نے کہا: تہران کانفرنس، درحقیقت بین الاقوامی برادری، حکومت شام نیز شامی حکومت کے مخالفین کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کا واضح پیغام ہے اور وہ یہ کہ شام کے بحران کا واحد راہ حل، پرامن راہ حل ہے۔ــ دہشت گردی کے عالمی سرپرست؛ شام میں دہشت گرد بھجوا رہے ہیںاسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹرسعید جلیلی نے کہا ہے کہ اسرائیل مخالف مزاحمت محاذ کو نقصان پہنچانے کے لئے شام میں سرگرم عمل دہشت گردی دہشت گرد بھجوائے جارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق، ویسے تو امریکہ اور اس کے تمام حلیفوں کا خیال ہے کہ وہ دنیا کی سطح پر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے چیمپئن ہیں لیکن یہ حقیقت آج کسی بھی زمانے سے زیادہ عیاں ہوچکی ہے کہ دہشت گردی ان قوتوں کے اقدامات کا رد عمل نہیں ہے بلکہ ان کے سیاسی مقاصد کے حصول کے اوزاروں میں سے ایک اوزار ہے جیسا کہ وہ آج شام میں اپنا الو سیدھا کرنے کی غرض سے دہشت گردوں کے لشکر بنا بنا کر بھجوارہے ہیں۔ آج سے چند سال اگر کہا جاتا ہے کہ "دہشت گردی کی فلاں کاروائی" کے پیچھے فلان قوت کا یا فلاں ملک کا ہاتھ ہے تو آج یہ سب واضح ہوچکا ہے اور عالمی دہشت گرد قوتیں واضح طور پر مداخلت کرتی ہیں، دہشت گردوں کی اعلانیہ حمایت کرتی ہیں، دہشت گردوں کی امداد کرتی ہیں اور اعلانیہ طور پر آمروں اور بادشاہوں کو اپنے ساتھ ملا کر شام جیسے ممالک میں "جمہوریت کی تحریک" (!؟) چلاتی ہیں۔اسی سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹرسعید جلیلی کا کہنا تھا کہ شام یہودی ریاست کے خلاف مزاحمت کی حمایت میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور اسی بنا پر اس کو مختلف سازشوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے جن میں دہشت گردوں  کے گروپ شام میں داخل کرنا بھی شامل ہے۔ سعید جلیلی نے جمعرات 9 اگست کو عراقی حکام سے بات چیت کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ بعض فریق شام میں ہتھیار بھجوا کر دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہیں اور وہ اس ملک میں فتنہ انگیزی کررہے ہیں۔ دریں اثناء عراق کی قومی سلامتی کے مشیر "فالح الفیاض" نے کہا: علاقے کا اہم مسئلہ اس وقت شام کا مسئلہ اور اس ملک میں ہونے والی لڑائی اور بدامنی کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات ہیں جبکہ عراق نے قبل ازیں اس صورت حال کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا تھا۔انھوں نے کہا: شام کا مسئلہ حل کرنے کا بہترین راہ حل، بات چیت اور شام کے عوام، حکومت اور مخالفین کی خواہشات کو اہمیت دینا ہے۔ ــ شام میں بفر زون اور وسیع جنگ کی سازش پر انتباہشام کے سیاسی تجزیہ نگار نے امریکہ اور اس کے حلیفوں کو خبردار کیا ہے اگر شام میں حائل پٹی قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ کوشش شام میں خونریز اور ہولناک جنگ پر منتج ہوگی۔اطلاعات کے مطابق شام کے سیاسی مسائل کے ماہر و تجزیہ نگار محمد الحسین نے کہا کہ اگر شام میں بفر زون قائم کرنے کے عوض امریکہ اور اس کے کٹھ پتلیوں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ کیونکہ یہ کوشش صہیونی ریاست کو "ویران کن" خطرات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔انھوں نے کہا: شام ایک مستقل اور آزاد ملک ہے جو امریکہ سے وابستہ نہیں ہے اور یہ ملک اسرائیلی ریاست کے خلاف قائم ہونے والے محاذ مزاحمت میں کردار ادا کررہا ہے اور یہ بات امریکہ کے غیظ و غضب کا سبب ہے اور اسی وجہ سے شام کو امریکہ اور اس کے علاقائی اور بین الاقوامی حلیفوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انھوں نے کہا: امریکہ اور استکباری طاقتیں جمہوریت کے بہانے ہمارے ملک میں داخل ہوتی ہیں لیکن عملی طور پر پورے علاقے کو تہس نہس اور درہم برہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔محمد الحسین نے کہا: شام دہشت گردوں کی سرکوبی اور عوام کو ان سے نجات دلانے میں جتنی کامیابی حاصل کررہا اسی قدر اس کو تشہیری حملوں کا نشانہ اور دہشت گردوں کو تشہیری حمایت کا مستحق قرار دیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا: حکومت شام فوج کو اس معاملے میں داخل نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند تھا لیکن اس کو اپنے عوام کے امن کا مسئلہ پیش آیا جس کے لئے فوج کو استعمال کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے بعد عالمی سامراج اور "ترکی، قطر اور آل سعود" سے تشکیل یافتہ علاقائی "مثلثِ شر" کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا کوئي امکان نہيں ہے۔ ــ شام میں نو فلائی زون نافذ کرنے کا امریکی خوابوائٹ ہاؤس کے اعلی مشیر برائے "انسداد دہشت گردی!" نے کہا: ہم شام کی مخالف قوتوں (دہشت گردوں) کو وسیع امداد فراہم کررہے ہیں اور ہماری طرف سے شام کی حکومت کے خلاف ان علاقوں میں نو فلائي زون قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں جہاں حکومت شام کے مخالفین موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی اعلانیہ حمایت کرتے ہوئے امریکہ کے اعلی اہلکار نے نو فلائی زون کا منصوبہ پیش کرکے در حقیقت اس کو پرامن پناہ گاہیں دینے کا منصوبہ بنایا ہے جس کو البتہ پذیرائی ملنے کا امکان بہت کم ہے۔اطلاعات کے مطابق اینٹی وار تجزیاتی ویب سائٹ نے وائٹ ہاؤس کے اعلی مشیر برائے انسداد دہشت گردی(!) جان برینن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بارک اوباما کے مشیر نے "فارن پالیسی کونسل" میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی حکومت نے شام کے خاص خاص علاقوں میں نو فلائی زون کے قیام کا منصوبہ مسترد نہیں کیا ہے۔امریکی اہلکار نے یہ اعلان کرکے درحقیقت شام میں بلاواسطہ مداخلت کا عندیہ دیا ہے گوکہ امریکہ آج تک اپنے بقول "عالمی برادری" (یعنی وٹو پاورز) کو شام میں مداخلت کرنے پر آمادہ نہیں کرسکا ہے۔ــ مکمل صفایا کرنے تک دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری رہے گیحلب کے علاقے میں عوام اور قبائل کے تعاون سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کامیابی سے جاری ہے جبکہ فوج نے صلاح الدین کے علاقے سے دہشت گردوں کو مار بھگایا ہے اور اس علاقے کی اکا دکا دہشت گردوں سے مکمل صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق اکا دکا مسلح دہشت گرد بعض عمارتوں میں موجود ہیں جنہيں ہلاک یا گرفتار کرنے کے لئے فوجی کاروائی جاری ہے اور آئندہ چند روز میں ہی حلب میں مکمل امن قائم ہوجائے گا۔دریں اثناء حلب کا علاقہ "باب الحدید" ابھی تک دہشت گردوں کے زیر قبضہ ہے اور اس علاقے میں انصار نامی ٹولے نے عوام میں سے متعدد افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔ شام کی فوج کا صلاح الدین نامی علاقے میں داخلہ فوج کی ایک بڑی کاروائی کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے جس کے ذرائع ابلاغ نے "ام المعارک" (معرکوں کی ماں) کا نام دیا ہے۔ شام کی فوج نے صلاح الدین کے علاقے میں ترک، سعودی، افغانی اور پاکستانی، لیبیائی اور مصری دہشت گردوں کو قتل کیا یا گرفتار کیا جبکہ حلب میں ایک ترک جرنیل اور ایک دوسرے ترک اعلی فوجی افسر نیز سعودی فوجی افسروں کی گرفتاری بھی عمل میں آچکی ہے جن سے دمشق میں تفتیش ہورہی ہے۔ اور سینکڑوں عام دہشت گرد بھی گرفتار ہونے والوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے تک کاروائیاں جاری رہیں گی جبکہ ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ شامی افواج نے ترکی کے ساتھ سرحدی پٹی کو بھی دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاروائی کا آغاز کررکھا ہے۔

ــ حلب کے دوسرے اہم علاقے السکری کی آزادی عنقریبشام میں ذرا‏ئع نے بتایا ہے کہ شامی فوج نے حلب کے اہم ترین علاقے کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے بعد اب السکری کی آزادی کے لئے کاروائیاں شروع کی ہیں۔السکری، صلاح الدین کے بعد دوسرا اہم علاقہ ہے جو دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے۔واضح رہے کہ دہشت گردوں نے حلب کے 29 میں سے 5 علاقوں پر قبضہ کررکھا تھا اور فوج نے اب السکری، المرجہ، سیف الدولہ اور الصاخور کو آزاد کرانے کا عزم کررکھا ہے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ اس ملک کی افواج نے حلب میں میدان اقیول اور میدان قاضی عسکر کو بھی دہشت گردوں سے آزاد کرادیا ہے۔ جبکہ دہشت گردوں کی تخریبکارانہ کاروائیوں کے نتیجے میں حلب شہر کے بجلی کے پانچ اسٹیشنز کام نہیں کررہے ہیں۔

ــ شام: دہشت گردوں کا کیمیاوی ہتھیار تیار کرنے کا ورکشاپ تباہسرکاری افواج نے حلب کے علاقے صلاح الدین کو دہشت گردوں سے چھڑاتے ہوئے دہشت گردوں کے ایک کیمیاوی ورکشاپ کو تباہ کردیا ہے جس میں وہ کیمیاوی ہتھیار تیار کررہے تھے جبکہ دہشت گردوں کو بم بنانے اور حفاظتی اقدامات کرنے کے تمام تر وسائل بیرونی ملکوں سے فراہم کئے گئے تھے۔

ــ مغرب کو شام میں ایران کا کردار نظرانداز نہيں کرنا چاہئےجرمن روزنامے "ٹسائٹ" نے علاقے میں ایران کے انتہائی اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مغرب کو شام کا مسئلہ حل کرنے میں ایران کا اہم کردار نظر انداز نہيں کرنا چاہئے بلکہ مغربی حکام کو شام کو تہس نہس ہونے سے بچانے کے لئے ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے کیونکہ شام میں جو جنگیں لڑي جارہی ہیں وہ 1970 کے عشرے میں لبنان کی جنگوں کی تصویر پیش کررہی ہیں۔

ــ شام میں سعودی، قطری اور ترکی کی خفیہ ایجنسیوں کی دستاویزات برآمدشامی افواج کے ہاتھوں اعلی سعودی، ترکی اور قطری انٹیلجنس افسروں کی گرفتاری کے بعد بعض نہایت اہم دستاویزات حکومت شام کے ہاتھوں لگی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض دستاویزات کو عنقریب شائع کیا جارہا ہے۔ فلسطین کی المنار نیوز ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ شام کی خفیہ ایجنسیوں کو عرب انٹیلجنس افسرو‎ں سے نہایت اہم معلومات موصول ہوئی ہیں جن میں ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں کی پناہگاہوں اور تربیتی کیمپوں کے نقشے اور نہایت جدید قسم کے مواصلاتی آلات بھی شامل ہیں۔ ان معلومات میں ان افراد کے نام اور پتے بھی درج ہیں جو دہشت گردی کی حمایت کررہے ہیں جن میں سعودی حکومت، قطر اور ایک تیسری عرب ریاست کے ذمہ دار حکام کے نام بھی موجود ہیں اور ان کے کردار سے بھی پردہ اٹھ گیا ہے۔ المنار نے لکھا ہے کہ ان افراد کے نام شائع ہونے کے بعد شام کے حالات کا رخ بدل جائے گا اور مذکورہ ملکوں کے کئی اعلی اہلکاروں کو رسوائی نصیب ہوگی۔...........

/11